گوگل کی ڈیجیٹل لائبریری

August 14, 2005

گوگل نے دنیا کی اہم لائبریریوں میں موجود کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں ڈھالنے کے منصوبے پر عمل درآمد روک دیا ہے
۔
گوگل نے کروڑوں کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں اتار کر انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا میں ہر جگہ دستیاب کرنے کے اس منصوبے پر کام اس تنقید کے بعد روکا ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کتابوں کے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی ہوگی۔ گوگل کے حکام نے کہا ہے کہ اس منصوبے پر اس سال نومبر تک کام روکا جارہا ہے تاکہ اس سلسلے میں ناقدین کے شکوک و شبہات کو دور کیا جاسکے۔دو سو ملین ڈالر کی لاگت کے اس منصوبے کے تحت گوگل امریکہ کی چار بڑی لائبیریوں کا مواد ، جن میں سٹینفورڈ ، ہارورڈ ، مشی گن اور نیویارک پبلک لائبریریاں شامل ہیں، 2015 تک ڈیجیٹل شکل میں ڈھالے گا۔ گوگل اسی منصوبے کے تحت برطانیہ کی یونیوسٹی آکسفورڈ کی ایسی کتابوں کو بھی ڈیجیٹل شکل میں اتارے گا جن کے کاپی رائٹس نہیں ہیں۔

گوگل کے حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ان کتابوں کی دنیا بھر میں انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں تک رسائی کو آسان بنانا ہے لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کئی ناشرین کو خطرہ ہے کہ اس سے ان کتابوں کے کاپی رائٹس یا حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ اسی مقصد کے لئے گوگل نے ان کتابوں کو سکین کرنے کا کام نومبر تک کے لئے ترک کردیا ہے۔

یہ وقفہ اس لئے دیا گیا ہے تاکہ ناشرین اور مصنفین گوگل کو یہ بتا سکیں کہ کن کتابوں کو کاپی رائٹس کی وجہ سے سکین نہ کیا جائے۔ تاہم گوگل کے اس فیصلے سے بھی کئے پبلشر اور ناشر مطمئین نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گوگل کاپی رائٹس کے تمام قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔

میرا خیال تھا کہ کام شروع سے ہونے سے پہلے ختم کرنے والی بات صرف پاکستان میں ہے ، لیکن اب پتہ چلا کہ یہ بیماری باہر بھی موجود ہے ۔ مشکل سے کسی نے یہ نیک کام شروع کیا تھا مگر لوگوں کو تکلیف شروع ہو گئی ۔ گوگل یہ کام یقیناً ان لائبریریوں کے منتظمین کی اجازت اور معاونت سے ہی کر رہا ہے ، لہٰذا ان ناشرین اور مصنفین کو لائبریریوں کے حکام سے بات کرنی چاہیے ۔ اور اگر گوگل سے بات کی بھی جاتی ہے تب بھی مصنفین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہییے کہ وہ پہلے ہی اپنی کتابوں سے بہت پیسا کما چکے ہیں ۔ اب اگر ان کی یہ کتابیں مستحق طلباء کو سستے داموں مل رہی ہیں تو ان کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے ۔

ذریعہ :

بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Entry Filed under: Google گوگل. .

1 Comment Add your own

Leave a Comment

Required

Required, hidden

Some HTML allowed:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <pre> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


Moved

یہ ویب سائیٹ درج ذیل جگہ پر منتقل کر دی گئی ہے http://urdutechnews.tuzk.net

تازہ ترین

Urdu TechNews Team

مسکرائیے

ماہر: F8 دبائیے !
صارف: کیا F اور 8 ایک ساتھ دبا دوں؟

Feeds

صارفین کی تعداد