نیپال میں شعبہ اردو بند

ستمبر 14, 2005 at 7:16 صبح تبصرہ چھوڑیں

حکومت پاکستان کی عدم دلچسپی اور اردو زبان کے استاد فراہم نہ کئے جانے کے باعث تری بھون یونیورسٹی میں اردو کا شعبہ گزشتہ چار سال سے بند ہے جس کے باعث نیپالی مسلمانوں نے بھارتی حکومت کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔20 سال قبل اردو زبان کے فروغ کے لئے پاکستان نے نیپال کی تری بھون یونیورسٹی کے انٹرنیشنل لینگویجز سینٹر میں اردو اور پاکستان اسٹڈیز چیئر قائم کی تھی، بعدازاں پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر طاہرہ نگہت کو چیئر کا سربراہ بنا کر بھیجا گیا جن کی کوششوں سے نیپال میں اردو کو فروغ حاصل ہوا اور اردو کی تدریس کو انٹر کی سطح سے بڑھا کر بی اے تک کر دیا گیا اور چیئر کا درجہ بڑھا کر اسے شعبہ بنا دیا گیا ۔ 20 سال قبل جب یہاں اردو کی تدریس شروع ہوئی تو نیپالی طلبہ کو راغب کرنے کے لئے 300 روپے ماہانہ نیپالی اسکالر شپ دینے کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وجہ سے نہ صرف نیپالی مسلمان بلکہ ہندو اور بدھسٹ افراد نے بھی داخلہ لیا، 1997ء میں پروفیسر طاہرہ واپس پاکستان چلی گئیں جس کے بعد پاکستان نے ڈاکٹر عبدالرؤف کو نیپال بھیجا، ڈاکٹر عبدالرؤف نے نیپال میں اردو کے شعبے کی ترقی کے لئے نیپالی مسلمانوں پر مشتمل ایک سبجیکٹ کمیٹی تشکیل دی جس میں محمد زاہد پرویز، حبیب اللہ، محمد ہارون انصاری، ابوالیعث، محمد شعیب آزاد، محمد ولی اللہ اور معظم رضا شاہ شامل تھے ۔ مئی 2001ء میں ڈاکٹر عبدالرؤف کی مدت پوری ہوئی اور وہ پاکستان چلے گئے جس کے بعد سے تاحال پاکستان کی جانب سے کسی ٹیچر کا تقرر نہیں ہوا اور تری بھون یونیورسٹی میں اردو کا شعبہ بند ہے ۔

یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ہیومنٹیز کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر مہادیو کوئرالا جو بھارتی اداکارہ منیشاء کوئرالا کے فرسٹ کزن ہیں’ نے بتایا کہ اردو کا شعبہ فیکلٹی آف ہیومنٹیز کے تحت آتا ہے، نیپالی عوام اردو زبان اور پاکستان کو پسند کرتے ہیں، اردو کا فروغ ڈاکٹر طاہرہ نگہت اور ان کے شوہر نیرّ ندیم کی وجہ سے ہوا ۔ نیرّ ندیم اردو کے ساتھ ساتھ نیپالی زبان میں بھی شاعری کرتے تھے جبکہ وہ اردو شاعری کا نیپالی میں ترجمہ کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ عوامی حلقوں میں بہت پسند کئے جاتے تھے ۔ طاہرہ نگہت کے دور میں 25 سے 30 طالبعلم اردو پڑھنے کے لئے آتے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد کچھ کمی ہوئی اور ڈاکٹر عبدالرؤف کے دور میں 15 سے 20 طالبعلم رہ گئے ۔ ڈاکٹر عبدالرؤف کے جانے کے بعد ان کی جگہ ابھی تک کوئی نہیں آیا جس کی اطلاع ہم نے پاکستانی ہائی کمیشن کو کر دی لیکن انہوں نے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لی ۔ بعدازاں انہوں نے بایوڈیٹا کے ساتھ 3 نام ہمیں بھیجے جن میں ڈاکٹر ایاز محمود ایسوسی ایٹ پروفیسر ملتان یونیورسٹی شعبہ سیاسیات، ڈائریکٹر جنرل اردو سائنس بورڈ خالد اقبال اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر اورنگزیب عالمگیر شامل ہیں۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر ہونے کی وجہ سے ہم نے ایاز محمود کے نام کی منظوری دیدی لیکن ابھی تک وہ نہیں آئے۔ اس حوالے سے ہم نے پاکستان کے سفارت خانے کو 12 فروری 2004ء کو خط بھی لکھا لیکن جواب ابھی تک نہیں آیا۔ یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ اور اردو سبجیکٹ کمیٹی کے رکن پروفیسر ایس ایم حبیب اللہ نے ”جنگ“ کو بتایا کہ نیپال میں مسلمانوں کی تعداد 15 لاکھ سے زائد ہے۔ یہ تمام مسلمان اپنے گھرانوں میں اردو میں بات چیت کرتے ہیں۔ نیپال میں 100 کے لگ بھگ دینی مدارس بھی ہیں جن میں اردو بھی پڑھائی جاتی ہیں لیکن ہم یہاں انٹر، گریجویشن اور ماسٹر کی سطح پر اردو چاہتے ہیں لیکن پاکستانی حکومت یا سفارت خانہ اب اتنی دلچسپی نہیں لے رہا جتنی ماضی میں تھی جس کی وجہ سے یہ شعبہ 4 برس سے بند ہے اور اب ہم بھارتی حکومت سے بات کر رہے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں ہماری مدد کرے۔

بشکریہ : روزنامہ جنگ

Advertisements

Entry filed under: Education تعلیم.

انٹرنیٹ کا بانی، گوگل میں شامل فیڈ ریڈر میں اردو تحریریں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


Moved

یہ ویب سائیٹ درج ذیل جگہ پر منتقل کر دی گئی ہے http://urdutechnews.tuzk.net

تازہ ترین

مسکرائیے

ماہر: F8 دبائیے !
صارف: کیا F اور 8 ایک ساتھ دبا دوں؟

Feeds

صارفین کی تعداد

  • 12,625 unique visits since 27-02-2007

%d bloggers like this: