ڈوئَل کور پروسیسر ( Dual Core Processor )

اکتوبر 1, 2005 at 5:16 شام 7 comments

ایڈیٹر کی نظر میں:nnn

مصنف: محمد شمیل قریشی

کون کمپیوٹر استعمال کنندہ یہ نہیں جانتا کہ پروسیسر کسی بھی کمپیوٹر کے لیے قلب کی سی اہمیت رکھتا ہے ۔ پروسیسر کی اس قدر اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کمپیوٹر کتنے ہی بڑے بڑے پرزوں کی شکل میں کیوں نہ ہو ۔ اس کو صرف اس میں موجود ایک چھوٹے سے پروسیسر ہی کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ جیسے ، پینٹیم ٹو ، پینٹیم تھری یا پھر پینٹیم فور اور سیلیرون کمپیوٹر۔ ہم ان الفاظ کا استعمال میز پے سمانے والے ( ڈیسک ٹاپ ) گود میں سمانے والے ( لیپ ٹاپ ) اور ہتھیلی پہ سمانے والے ( پام پی سی ) غرض تمام اقسام کے کمپیوٹرز کے لیے بکثرت کرتے ہیں ۔
ویسے تو پروسیسر کی تاریخ کافی پرانی ہے ۔ لیکن ایک کمپیوٹر پر ایک سے زیادہ پروسیسرز کے استعمال کو چند سال ہی ہوۓ ہیں ۔ سچ کہا جاۓ تو ڈوئَل کور پروسیسر کی ایجاد اور ترقی کا سہرا کسی طور بھی اِنٹیل اور اے ایم ڈی کے سر نہیں جاتا ۔پچھلی صدی کے اختتام پر ، ایک سے زیادہ پروسیسرز سے نصب شدہ انتہائی طاقتور سرورز بنانے والے تجارتی ادارے ( ایچ پی ) اور ( آئی بی ایم ) پہلے ہی دو پروسیسرز ایک ہی جسم میں رکھنے والے ڈوئَل کور پروسیسرز بنا چکے ہیں ۔ جیسے dual-core HP PA8800 اور IBM Power4 processors جو IBM eServer pSeries 690 اور HP 9000 کے سرورز کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں ۔
لیکن ہم ان مصنوعات کو بڑی تعداد میں تیار کی جانے والی مصنوعات نہیں کہیں گے ۔کیونکہ یہ دو تجارتی ادارے دنیا میں پروسیسرز کی کھپت کا صرف دس فیصد حصہ ہی پورا کرتے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان پروسیسرز کا بہت مہنگا ہونا ہے ۔

اِنٹیل کا گزشتہ HT کے عمل ( پروسیسینگ ) کا مجاز ( انےبلڈ ) پروسیسر ۔

اِنٹیل کمپنی نے میز پر سمانے والے ( ڈیسک ٹاپ ) کمپیوٹر کے لیے HT OR Hyper threading کے عمل ( پروسیسینگ ) کا مجاز پہلا پروسیسر 2002ء کی خزاں میں پیش کیا ۔ جو طبعی ( فیزیکل ) طور پر تو ایک ہی پروسیسر تھا لیکن منطقی ( لوجیکل ) طور پر وہ دو پروسیسروں کی طرح کام کرتا تھا ۔یعنی آپریٹینگ سسٹم اور پروگرامز اس کی موجودگی میں اس طرح سے عمل کرتے تھے جیسے وہ دو پروسیسرز پر مشتمل کمپیوٹر میں کام کر رہے ہوں ۔ اور اس طرح احکامات کے دو دھارے بیک وقت دو منطقی ( لوجیکل ) پروسیسرز سے گزرتے تھے ۔ یہ خصوصیت صرف ایک پروگرام کے عمل ( پرفارمینس ) کو ہی تیز کرتی تھی ۔ اور ساتھ ہی دوسرا منطقی ( لوجیکل ) پروسیسر استعمال کنندہ کے ظاہری کاموں کے علاوہ آپریٹینگ سسٹم کے پس پردہ کاموں کو سنبھالتا تھا ۔ اس سے مجموعی طور پر کمپیوٹر کا عمل ( پرفارمینس ) ایک حد تک بڑھ گیا ۔ اور پروسیسر کےصد فیصد کام کا بار اٹھانے پر پورے کے پورے کمپیوٹر کے منجمد ہو جانے کے نظارے کم ہی دیکھنے کو ملے ۔
نیچے کی تصویر میں Device Manager دو پروسیسرز دکھا رہا ہے ۔ دراصل یہ دو منطقی ( لوجیکل ) پروسیسرز ہیں ۔
ٹاسک منیجر دو پراسیسرز دکھارہا ہے۔

ڈوئَل کور پروسیسر۔

ghg copyڈوئَل کور پروسیسر دراصل ایک ہی جسم میں دو مرکزی عمل کار کرے ( کورز ) رکھنے والا پروسیسر ہے ۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ ایک جیسی ماہیت رکھنے والے دو مرکزی عمل کار ( پروسیسر) کو اگر جسامت میں چھوٹا کر دیا جاۓ اور ایک دوسرے کے ساتھ چسپاں کر دیا جاۓ تو وہ ایک ڈوئَل کور پروسیسر بن جاۓ گا ۔ ایسا سوچنا تو بظاہر آسان محسوس ہوتا ہے لیکن ایسا حقیقت میں کرنا جوۓ شیر لانے کے برابر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی عمل کار ( پروسیسر) ساز ادارے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خطیر رقم خرچ کر چکے ہیں ۔

اِنٹیل کا اولین ڈوئَل کور پروسیسر۔

اِنٹیل نے اس نسل کا اولین مرکزی عمل کار ( پروسیسر) اپریل 2005 ء کو پیش کیا ۔ لیکن اس قسم کے پروسیسر کو کمپیوٹر میں نصب کرنے کے لیے آپ کو ایک نئی مدر بورڈ درکار ہوگی اور ساتھ ہی ایک نئی بائیوس اپڈیٹ کی بھی ضرورت ہوگی ۔ اِنٹیل کمپنی نے اپنے پروسیسرز کو نام دینے کی حکمت عملی بدل دی ہے ۔ یعنی ڈوئَل کور پروسیسر کو ( ڈیول کور ) پینٹیم فور کی بجاۓ صرف پینٹیم ( ڈی ) اور پینٹیم ( ایکسٹریم ایڈیشن ) کے نام دیے گئے ہیں ۔ اس قسم کے پروسیسرز کے لیے نمبر 8 سے شروع ہونے والے عددی نام رکھے گۓ ہیں ۔
اِنٹیل نے ان پروسیسرز کو مدر بورڈ کے ساتھ جوڑنے والے خانے ( ساکٹ ) LGA 775 میں تھوڑی بہت ترامیم بھی کیں ہیں ۔ اندرونی طور پر دو پریسکورٹ طرز کے پروسیسرز کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا گیا ہے ۔ اور ہر کرہ 1 ایم بی کیشے رکھتا ہے ۔ یعنی مجموعی طور پر ایک پروسیسر 2 ایم بی کیشیے پر مشتمل ہے ۔ڈوئَل کور پروسیسر کے دونوں کرے ایک دوسرے سے ایک خاص بس انٹرفیز کے زریعے بات چیت کرتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دونوں کرے ایک دوسرے کی کیشے کو استعمال میں بھی لا سکتے ہیں ۔ ڈوئَل کور پروسیسر کے دونوں کرے مکمل طور پر انفرادی عمل کرسکتے ہیں ۔ آپریٹینگ سسٹم ان دونوں کے درمیان ربط دہی کا کام سرانجام دیتا ہے ۔ اِنٹیل کے یہ پروسیسرز 64 بٹ پروسیسنگ کی وسعت ( ایکسٹینشن ) رکھتے ہیں جس کو اِنٹیل نے EM64T کا نام دیا ہے ۔ یعنی اس کو 64 اور 32 بٹ دونوں طرح کی طرز تعمیر رکھنے والے کمپیوٹر اور آپریٹینگ سسٹم چلا پائینگے ۔

ڈوئَل کور پروسیسر کو فراہم کردہ ایس۔ایم۔پی ( سمیٹریک ملٹی پروسیسنگ ) متوازن کثیر عملی نظام ۔

( ایس ایم پی ) کا نظام ایک سے زیادہ پروسیسر رکھنے والے کمپیوٹر سسٹم بنانے میں مددگار ہے ۔ اس نظام میں پروسیسر ایک دوسرے کے ساتھ مربوت رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں ۔ پروسیسرز آپس میں ایسی نظام کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ کام کا بار تقسیم کرتے ہیں ۔ اس سلسلے یں مدر بوڑڈ کا چیپ سیٹ اور آپریٹنگ سسٹم ان پروسیسروں کی معاونت کرتے ہیں ۔
آپریٹنگ سسٹم دونوں پروسیسرز کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرتا ہے اور دونوں کو ضرورت پڑنے پر کام سونپتا ہے ۔ ( اے ۔ایم۔ ڈی ) اور ( اِنٹیل ) دونوں اداروں کے ڈوئَل کور پروسیسر ( ایس ایم پی ) کے نظام کے مجاز ہیں ( اندرونی طور پر ) ۔ ( ایس ایم پی ) کے نظام کی سب سے بڑی بندش ( لیمیٹیشن ) یہ ہے کہ اس نظام کو اپنا کام خیروخوبی سے سرانجام دینے کے لیے سافٹ ویر اور آپریٹنگ سسٹم دونوں کی ہر لحظہ معاونت درکار ہے ۔ بہت سے آپریٹنگ سسٹم جیسے ونڈوز ( ایکس پی ہوم ایڈیشن ) ، ( ایس ایم پی ) کے نظام کے استعمال سے عاری ہیں ۔ یعنی اس قسم کا آپریٹنگ سسٹم ، ڈوئَل کور پروسیسر کے ایک کرے کو ہی کام میں لاۓ گا ۔ دوسرا کرہ بےروزگار رہے گا ۔ اس کے علاوہ آج کل کے جدید ایپلیکیشنز یک ڈوری ( سنگل تھریڈیڈ ) ہیں یعنی یہ ایپلیکیشنز احقامات ( انسٹرکشنز ) کی ایک ہی ڈور ( تھریڈ ) کی شکل میں پروسیسر سے گزرتی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے ایپلیکیشنز بھی ڈوئَل کور پروسیسر کے صرف ایک قلب یا کرے سے گزریں گی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دو ڈوری ( ٹو تھریڈیڈ ) ایپلیکیشنز موجود ہیں یعنی ایسی ایپلیکیشنز جو احقامات ( انسٹرکشنز ) کی شکل میں بیک وقت دو ڈوریاں ( تھریڈز ) بناتے ہوۓ پروسیسر سے گزرتی ہیں ، لیکن ان دو ڈوری ( ٹو تھریڈیڈ ) ایپلیکیشنز کی تعداد آج کل کی سوفٹ ویر صنعت میں آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ اس لیے ڈوئَل کور پروسیسر فی الحال اپنے سوفیصد نتائج نہیں دکھاۓ گا ۔
( سمیٹریک ملٹی پروسیسنگ ) متوازن کثیر عملی نظام اب تک اِنٹیل ، اے ایم ڈی اور چند دوسرے اداروں کے سرورز میں ہی موجود تھا ۔ لیکن اب ڈوئَل کور پروسیسرکی آمد سے یہ نظام میز پے سمانے والے ( ڈیسک ٹاپ ) کمپیوٹر کی زینت بھی بن گیا ہے ۔

اِنٹیل کے ڈوئَل کور پروسیسر کے نمونے ( ماڈلز ) ۔

Copy (2) of two models of dual core processors

1 ۔ پینٹیم ( ڈی ) پروسیسر ( نمونہ / ماڈل نمبر 820 ) ۔

ڈوئَل کور پروسیسر کا یہ سادہ نمونہ ہے ۔ اس پروسیسر کے ہر کرے کی رفتار 2.8 GHz اور اس کے FSB کی رفتار 800 ہے ۔ یہ پروسیسرز 64 بٹ پروسیسینگ کی وسعت ( ایکسٹینشن ) EM64T رکھتا ہے ۔ یعنی اس کو 64 اور 32 بٹ دونوں طرح کی طرز تعمیررکھنے والے کمپیوٹر اور آپریٹینگ سسٹم چلا پائینگے ۔ ہر کرہ 1 ایم بی کیشے رکھتا ہے ۔ یعنی مجموعی طور پر یہ پروسیسر 2 ایم بی کیشیے پر مشتمل ہے ۔ یہ پروسیسر HT OR Hyper threading کے عمل ( پروسیسینگ ) کا مجاز نہیں ہے ۔

2 ۔ پینٹیم ( ڈی ) پروسیسر ( نمونہ / ماڈل نمبر 830 ) ۔

ڈوئَل کور پروسیسر کا یہ سادہ نمونہ ہے ۔ اس پروسیسر کے ہر کرے کی رفتار 3.0 GHz اور اس کے FSB کی رفتار 800 ہے ۔ یہ پروسیسرز 64 بٹ پروسیسینگ کی وسعت ( ایکسٹینشن ) EM64T رکھتا ہے ۔ یعنی اس کو 64 اور 32 بٹ دونوں طرح کی طرز تعمیررکھنے والے کمپیوٹر اور آپریٹینگ سسٹم چلا پائینگے ۔ ہر کرہ 1 ایم بی کیشے رکھتا ہے ۔ یعنی مجموعی طور پر یہ پروسیسر 2 ایم بی کیشیے پر مشتمل ہے ۔ یہ پروسیسر بھی HT OR Hyper threading کے عمل ( پروسیسینگ ) کا مجاز نہیں ہے ۔

3 ۔ پینٹیم ( ڈی ) پروسیسر ( نمونہ / ماڈل نمبر 840 ) ۔

ڈوئَل کور پروسیسر کا یہ سادہ نمونہ ہے ۔ اس پروسیسر کے ہر کرے کی رفتار 3.2 GHz اور اس کے FSB کی رفتار 800 ہے ۔ یہ پروسیسرز 64 بٹ پروسیسینگ کی وسعت ( ایکسٹینشن ) EM64T رکھتا ہے ۔ یعنی اس کو 64 اور 32 بٹ دونوں طرح کی طرز تعمیررکھنے والے کمپیوٹر اور آپریٹینگ سسٹم چلا پائینگے ۔ ہر کرہ 1 ایم بی کیشے رکھتا ہے ۔ یعنی مجموعی طور پر یہ پروسیسر 2 ایم بی کیشیے پر مشتمل ہے ۔ یہ پروسیسر بھی HT OR Hyper threading کے عمل ( پروسیسینگ ) کا مجاز نہیں ہے ۔

4 ۔ پینٹیم ( ایکسٹریم ایڈیشن ) پروسیسر ( نمونہ / ماڈل نمبر 840 ) ۔

ڈوئَل کور پروسیسر کا یہ سادہ نمونہ ہے ۔ اس پروسیسر کے ہر کرے کی رفتار 3.2 GHz اور اس کے FSB کی رفتار 800 ہے ۔ یہ پروسیسرز 64 بٹ پروسیسینگ کی وسعت ( ایکسٹینشن ) EM64T رکھتا ہے ۔ یعنی اس کو 64 اور 32 بٹ دونوں طرح کی طرز تعمیررکھنے والے کمپیوٹر اور آپریٹینگ سسٹم چلا پائینگے ۔ ہر کرہ 1 ایم بی کیشے رکھتا ہے ۔ یعنی مجموعی طور پر یہ پروسیسر 2 ایم بی کیشیے پر مشتمل ہے ۔ یہ پروسیسر HT OR Hyper threading کے عمل ( پروسیسینگ ) کا مجاز بھی ہے ۔ اس طرح یہ طبعی ( فیزیکل ) طور پر تو ایک ہی پروسیسر ہے اور دو مرکزی عمل کار کروں پر مشتمل ہے ۔ لیکن منطقی ( لوجیکل ) طور پر یہ چار پروسیسروں کی طرح کام کرتا ہے ۔ یعنی آپریٹینگ سسٹم اور پروگرامز اس کی موجودگی میں اس طرح سے عمل کرتے جیسے وہ چار پروسیسرز پر مشتمل کمپیوٹر میں کام کر رہے ہوں ۔ اور اس طرح احکامات کے چار دھارے بیک وقت چار منطقی ( لوجیکل ) پروسیسرز سے گزرتے ہیں ۔
نیچے دی گئی تصویر میں Task Manager چار پروسیسر کے استعمال کی تاریخ ( سی پی یو یوزیج ہسٹری ) دکھا رہا ہے ۔ دراصل یہ چار منطقی پروسیسرز کی معلومات دے رہا ہے ۔
Copy of bpi

پروسیسر ساز اداروں کی اشتہاری مہمیں ۔

دنیا کے مشہور پروسیسر ساز ادارے ( اے ۔ایم۔ ڈی ) اور ( اِنٹیل ) آج کل زوروشور سے اپنے اپنے ڈوئَل کور پروسیسر کے اراکین کو بظاہر حیران کن خصوصیات ، نت نۓ ناموں اور پرکشش ڈبوں میں پیش کر کے صارفین کی توجہ کا مرکز بنانے میں مصروف ہیں ۔ اس سلسلے میں معاونت کے لیے دونوں کمپنیوں کی اشتہاری مہمیں اپنے عروج پر ہیں ۔ اشتہار بازی کے اس شور میں یہ بنیادی سوال کہیں دب کر رہ گیا ہے کہ کیا موجودہ سنگل کور پروسیسر ماہیت کے لحاظ سے اپنے نقطہ اختتام کو پہنچ گیا ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر اس شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو پروسیسرز کے بارے میں تھوڑا بہت بھی علم رکھتا ہے ۔ لیکن کم لوگ ہی اس بارے میں جانتے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ان دو مشہور اداروں نے بیک وقت پروسیسر کی طرز تعمیر میں اتنی بڑی تبدیلی کیوں کی ۔

کمپیوٹر پروسیسر کی طرز تعمیر میں آخر اتنی بڑی تبدیلی کی وجہ ۔

پروسیسر کی اس قدر رفتار بڑھانے میں کمپیوٹر کھیلیں کھیلنے والوں نے عمل انگیز کا کام کیا ہے ۔ کیونکہ ہر کھلاڑی تیز ترین تفریح چاہتا ہے ۔ مغربی ممالک میں کمپیوٹر کھیلوں کے بڑے بڑے مقابلے منعقد ہوتے ہیں اور ان میں کھیل جیتنے والے کو خطیر رقم دی جاتی ہے ۔ اور ان کھیلوں میں زیادہ تر وہی جیتتا ہے جس نے کسی تیز ترین کمپیوٹر پر زیادہ دیر تک کھیل کی تیاری کی ہو ۔ کھلاڑیوں کے کمپیوٹر ، اے ایم ڈی اور اِنٹیل کے لیے میدان جنگ بن گیے ہیں ۔ ہر کمپیوٹر اخبار ان دونوں حریف اداروں کے پروسیسرز کی ماہیت کے تقابلی جائزے پیش کرتا ہے ۔ عام طور پر کمپیوٹر کھیلیں کھیلنے کے سلسلے میں اے ایم ڈی کے پروسیسرز کی جیت ہوتی ہے ۔
یہ بات اِنٹیل کی برداشت سے باہر ہے ۔ اس کی وجہ صاف ہے ۔ اِنٹیل دنیا کا سب سے بڑا پروسیسر ساز ادارہ ہے ۔ اِنٹیل نے ہی پہلی بار دنیا کے سامنے میز پے سمانے والا ( ڈیسک ٹاپ ) کمپیوٹر پروسیسر پیش کیا تھا ۔ اِنٹیل نے 1997 ء تک دنیاۓ زاتی کمپیوٹر پر سہی معنوں میں راج کیا ہے ۔ لیکن 1997ء میں اِنٹیل نے پہلی بار کسی ادارے سے خوف محسوس کیا وہ اے ایم ڈی تھا ۔ 1997ء سے اب تک اے ایم ڈی کمپیوٹر کھیلیں کھیلنے والوں کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے ۔ لیکن مجھ سمیت دنیا میں اِنٹیل کے وفادار صارفین کی کمی نہیں ۔ انکارٹا انسائکلوپیڈیا کے مطابق دنیا کے 80 فیصد زاتی کمپیوٹروں میں اِنٹیل پروسیسر نصب ہے ۔
کمپیوٹر کے بڑے بڑے ماہرین کمپیوٹر پروسیسر کی طرز تعمیر میں اتنی بڑی تبدیلی کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پروسیسر ساز ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں روز بروز پروسیسر کی رفتار بڑھاتے رہے ہیں ۔ رفتار بڑھانے کے عمل میں انہوں نے کافی ساری اہم باتوں کو نظرانداز کیا ہے ۔ ان میں سب سے اہم پروسیسروں کا بہت گرم ہوجانا بتایا جاتا ہے ۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے پروسیرز کو قیمتی ٹھنڈا رکھنے کے یونٹ لگاۓ جاتے ہیں ۔ ایسا خاص طور پر کھیلیں کھیلنے والے کمپیوٹر کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ تیز رفتار کھیلیں چلانے سے پروسیسر بہت جلد گرم ہوجاتا ہے ۔ یہ گرمی پروسیسر کی ساخت کو بہت ذیادہ نقصان پہنچاتی ہے ۔ 2003ء تک خیال تھا کہ دونوں ادارے 4 GHz تک کے پروسیسر پیش کریں گے ۔ لیکن پروسیسرز کے بے تحاشا گرم ہونے اور زیادہ بجلی استعمال کرنے کی وجہ سے ایسی رفتار رکھنے والے پروسیسرز کی تیاری کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ اس مسلے کے حل کے لیے ڈوئَل کور پروسیسر کی تیاری پر زور دیا جا رہا ہے ۔ اے ایم ڈی اور اِنٹیل اپنے اپنے ڈوئَل کور پروسیسر 90nm کی فیبریکیشن میں تیار کر رہے ہیں ۔ کیونکہ اصول ہے ” چھوٹا فیبریکیشن سایز = کم طاقت کی کھپت = گرمی کی کم پیداوار ” ۔ دونوں اداروں نے ” سیاست ” سے بھی کام لیا ہے ۔ اِنٹیل کی ہی مثال لیجیے ، اِنٹیل کے پیش کیے جانے والے طاقتور ڈوئَل کور پروسیسر کی رفتار 3.2 GHz ہے جوکہ موجودہ پنٹیم سے کہیں کم ہے ۔ آج کے موجودہ پینٹیم پروسیسر کی زیادہ سے زیادہ رفتار 3.8 GHz ہے ۔ طاقتور ڈوئَل کور پروسیسر کی رفتار 3.2 GHz اس لیے ہے تاکہ پروسیسر جلدی گرم نہ ہو ۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں ڈوئَل کور پروسیسر میں 3.2 GHz رفتار رکھنے والے دو کرے ہوتے ہیں اس لیے نیا ڈوئَل کور پروسیسرموجودہ 3.8 GHz رفتار رکھنے والے پینٹیم سے کہیں تیز عمل کرتا ہے ۔

اِنٹیل کے مصنوعی ذہانت رکھنے والے ( ملٹی کور ) پروسیسر کے حصول کے لیے نقشہ راہ ( روڈ میپ ) ۔

Road mapدنیا کے سب سے بڑے پروسیسرز ساز ادارے اِنٹیل کے بقول یہ نیا ڈوئَل کور پروسیسر ، درحقیقت ( ٹرپل کور ) ، ( ٹیٹرا کور ) اور کار ( ملٹی کور ) پروسیسرز کی بنیاد فراہم کرے گا ۔ تصویر میں موجودہ سنگل کور پروسیسرز کے نام نیلے حصے میں لکھے گیے ہیں اور ( ملٹی کور ) پروسیسرز کے نام سبز حصے میں لکھے گئے ہیں ۔ نقشہ راہ کو بغور دیکھنے سے صاف دکھتا ہے کہ اِنٹیل، ( ملٹی کور ) پروسیسرز کے مستقبل سے کتنا پر امید ہے ۔
( ملٹی کور ) مرکزی عمل کار مستقبل کی بے انتہا پیچیدہ فنی مہارتوں ( ٹیکنالوجیز ) کو عملی جامہ پہنانے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔ ان پیجیدہ فنی مہارتوں ( ٹیکنالوجیز ) میں سے دو کی مثالیں درج زیل ہیں ۔

مصنوعی ذہانت پیدا کرنے میں معاونت ۔

Copy (2) of computer Brian pictureکمپیوٹر میں صد فیصد مصنوعی ذہانت پیدا کرنے کی فنی مہارت ( ٹیکنالوجی ) بھی ان پیچیدہ فنی مہارتوں ( ٹیکنالوجیز ) ميں سے ہے ۔ اس میں ایک کمپیوٹر ایک نینو سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں اربوں کھربوں خیالات ، محسوسات ، جوابات ، سوالات ، حسابات اور عملیات کو بیک وقت کرے گا ۔ اس طرح کے طرز عمل سے کمپیوٹر کو انسانی ذہن سے بھی زیادہ عمدہ طریقے سے کام کرنے کا موقعہ ملے گا ۔مستقبل کے خلائی سفر کی قلید ۔

Copy (2) of gdsggeاور مستقبل میں خلائي سفر میں پوزیٹرون ( الیکٹرون کی ضد ) کی مدد سے بیک جنبش قلب ہزارہا کلومیٹر کا سفر طے کر جانے کی فنی مہارت ( ٹیکنالوجی ) بھی بڑی پیچیدہ ہے ۔ فی زمانہ اس طرح کے سفر کرنے کے بارے میں سوچنا بھی خواب محسوس ہوتا ہے ۔اس سفر میں ایک نہایت عمدہ خلائی جہاز کے ساتھ ساتھ ایسے ذہن کی بھی ضرورت ہو گی جو اس انداز سے سوچے جس کے لیے برق رفتاری جسے الفاظ بھی کم پڑتے ہوں ۔ یعنی وہ خلائی جہاز کے اس قدر تیز رفتاری کے سبب ، اپنے ذخیرہ حقائق ( ڈیٹا سٹوریج ) سے لحظہ بہ لحظہ بدلنے والے خلائی نقشوں کی تفصیل مانگتا رہے اور اپنی مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوے ان دیکھی اور انجانی صورت حال میں بھی صحیح سمت کا تعین کرے، مسلسل خلائی جہاز کے پرزوں اور جسامت کی صحت کا خیال رکھے۔ خلا کی اندھیر نگری میں چھپے ہوۓ سیاہ نقطوں ( بلیک ہولز ) سے اپنی بصیرت اور موجودہ معلومات کے مطابق بچنے کا انتظام کرے ۔ اپنے خالق یعنی انسان کے سست الوجود ہونے کے باوجود بھی اس سے مخلص رہے ۔ انسان کی اس بےنظیر مصنوعی تخلیق کو آج کے سائنسدان ( ملٹی کور ) مرکزی عمل کار کی معاونت سے معرض وجود میں آتا دیکھتے ہیں ۔ لیکن کمپیوٹر کو اس جگہ پہنچنے کے لیے کم از کم ایک صدی درکار ہے ۔

محمد شمیل قریشی کی بہت اعلٰی کاوش۔ اس مضمون پرحارث نے نظرِثانی کی۔

Advertisements

Entry filed under: Articles مضامین.

My Wallop 300MB Web Space

7 تبصرے Add your own

  • 1. Danial  |  اکتوبر 1, 2005 از 6:31 شام

    شمیل میاں بہت محنت سے تیار کئے گئے اس مضموں پر مجھ ناچیز کی رائے مانگنا تو سراسر نا انصافی ہے۔ ماشاءاللہ بہت عمدہ لکھا ہے۔

    جواب
  • 2. جہانزيب  |  اکتوبر 1, 2005 از 9:00 شام

    واہ بہت محنت اور لگن سے خبر تيار کي ھے شميل۔۔۔ ايک بات ميں کہنا چاہوں گا کہ کھيلوں کے آن لائن فروغ سے اس دوڑ ميں بہت تيزي آئي ھے۔۔ مگر قاري ان کمپيوٹر کو پي سي نہيں سمجھ ليں۔۔
    اس وقت دو بڑي کمپنياں اس دوڑ ميں سر فہرست ھيں ايک سوني اپنے پلے سٹيشن کے ساتھ دوسرا مائکروسافٹ اپنے ايکس باکس کے ساتھ اور ان کي دوڑ ميں مارا گيا نيٹينڈو ۔۔

    جواب
  • 3. شعیب صفدر  |  اکتوبر 1, 2005 از 11:54 شام

    شمیل میاں! کمال کا مضمون لکھا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہایت اعلی۔۔۔۔۔ زبردست

    جواب
  • 4. بدتمیز  |  اکتوبر 2, 2005 از 3:07 صبح

    سلام
    بہت عمدہ۔ آپ نے تو میدان مار لیا۔
    🙂

    جواب
  • 5. urdudaaN  |  اکتوبر 2, 2005 از 8:30 شام

    An excellent article. I am grateful to you for all the nice urdu technical terminologies. I would like to draw your attention to 2 things: 1. laptop is lap sized & not pal sized. 2. the urdu plural of khel is never kheleiN, it is either khel or kheloN, i.e even khel is a plural e.g. maine bahot khel dekhe. Once again thanks for putting in so much of effort.

    جواب
  • 6. Harris - حارث  |  اکتوبر 5, 2005 از 10:59 شام

    شمیل بہت محنت سے تيار کیا ہے۔ شاباش۔ میں نے ضرورت کے مطابق ایڈٹ کر دیا ہے۔ اور ستاروں کے ذريعے ریٹنگ کر دي ہے۔ بہت اعلٰی ۔ تم سے مزید مضامین کی توقع رہے گی۔

    معاون ایڈیٹر۔

    جواب
  • 7. Anonymous  |  اگست 19, 2006 از 8:04 شام

    You have done very good job.Its very informative.

    جواب

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


Moved

یہ ویب سائیٹ درج ذیل جگہ پر منتقل کر دی گئی ہے http://urdutechnews.tuzk.net

تازہ ترین

مسکرائیے

ماہر: F8 دبائیے !
صارف: کیا F اور 8 ایک ساتھ دبا دوں؟

Feeds

صارفین کی تعداد

  • 12,625 unique visits since 27-02-2007

%d bloggers like this: