مشتری ہوشیار باش

جنوری 7, 2006 at 5:44 شام تبصرہ چھوڑیں

آئی ٹی ماہرین کی کمی کا خدشہ
بحوالہ۔بی بی سی اردو
پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت تین سال کے مندی کی صورت حال سے باہر آگئی ہے اور اس میں تیزی سے ترقی ہورہی ہے لیکن صنعت کاروں کو خدشہ ہے کہ اگلے سال سے اس صنعت کو آئی ٹی ماہرین اور ہنرمندوں کی کمی کا سامنا ہوگا۔
لاہورمیں ایک نجی سافٹ ویئر بنانے والی پاکستانی کمپنی نیٹسول کے بانی اور چیف ایگزیکٹو سلیم غوری نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی شدید مندی کا شکار ہوگئی تھی اور اسے یورپ اور امریکہ سے بزنس ملنا بند ہوگیا تھا۔
سلیم غوری کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کی مندی کو دیکھتے ہوئے نوجوان آئی ٹی کی تعلیم سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور آئی ٹی گریجویٹس کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال رہی تو سنہ دو ہزار سات اور دو ہزار آٹھ میں صنعت کو ہنر مندوں کی کمی کا سامنا ہوگا اور اس کی ترقی کی رفتار ٹوٹ جائے گی۔
سلیم غوری نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے بعد دو سے تین سال تک اس واقعہ کا منفی اثر رہا اور یورپ اور امریکہ کے لوگ پاکستان سے خوف زدہ تھے تاہم انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ حالات بہتر ہونا شروع ہوئے اور سنہ دوہزار چار میں پاکستانی کمپنیوں کو بیرون ملکوں سے چھوٹے چھوٹے کاروبار ملنا شروع ہوگئے۔
سافٹ ویئر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ برس سے پاکستان کی آئی ٹی صنعت اور دنیا کی آئی ٹی صنعت کے کاروبار میں تیزی آئی ہے اور اس عرصے میں پاکستان کو جو بزنس ملا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہر صنعت کو اپنے کو کھڑا کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے اور پاکستان کی آئی ٹی صنعت اب مستحکم ہوگئی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ اب امریکہ سے اس شعبے میں تجربہ کار لوگ آکر پاکستان میں کام شروع کررہے ہیں جبکہ پہلے ناتجربہ کار لوگ یہ کام کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو نیا کاروبار باہر سے پاکستانی کمپنیوں کو مل رہا ہے اس میں کال سینٹرز اور کریٹکل سافٹ ویئر پراجیکٹس شامل ہیں جو پہلے پاکستان کی کمپنیوں کو نہیں ملا کرتے تھے۔
سلیم غوری کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستانی کمپنیوں کو بڑے منصوبے نہیں ملتے تھے لیکن اب ملنے لگے ہیں۔ اس موقع پر موجود جرمن ماہر یوجین بیکٹ نے بھی کہا کہ پاکستان آئی ٹی صنعت کا اگلا مرکز ہے اور اس میں آگے بڑھنے کے زبردست مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی اس سال سے آئی ٹی کے شعبہ میں تعلیم اور تربیت کے منصوبے شروع کررہی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ بھارت نے انیس سو پچاس میں پہلا آئی ٹی انسٹی ٹیوٹ قائم کرلیا تھا جو عالمی معیار کا تھا اور انیس سو ستر تک وہاں ایسے چھ ادارے موجود تھے جن سے فارغ ہونے والے گریجویٹس امریکہ گئے اور انیس سو کی دہائی میں وہ وہاں پر فیصلہ ساز عہدوں پر پہنچ گئے اور انہوں نے بھارتی کمپنیوں کو فروغ دینا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مقابلہ میں پاکستان بیس سال بعد انیس سو ستر کے اواخر میں آئی ٹی کی تعلیم کی طرف آیا اور یہاں پہلا ادارہ قائم کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں بھارت سے موازنہ کے بجائے معیار پر توجہ دے کر اپنی جگہ بنارہی ہیں اور زیادہ معاوضہ پر کام کررہی ہیں۔
نیٹسول ٹیک نے اپنی دس سالہ تقریبات منعقد کیں۔ پاکستان کی یہ واحد کمپنی ہے جس کانیویارک کی سٹاک ایکسچینج نیسدیک میں اندراج ہے اور تیس لاکھ سرمائے سے شروع ہونے والی اس کمپنی کا لاہور میں اپنا آئی ٹی پارک بھی ہے۔

Advertisements

Entry filed under: Pakistan پاکستان.

Meebo مائیکروسافٹ آفس 2003 ( اردو ) ( چند مناظر ) ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Trackback this post  |  Subscribe to the comments via RSS Feed


Moved

یہ ویب سائیٹ درج ذیل جگہ پر منتقل کر دی گئی ہے http://urdutechnews.tuzk.net

تازہ ترین

مسکرائیے

ماہر: F8 دبائیے !
صارف: کیا F اور 8 ایک ساتھ دبا دوں؟

Feeds

صارفین کی تعداد

  • 12,625 unique visits since 27-02-2007

%d bloggers like this: